اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسلامی تحریک نائجیریہ کے سربراہ شیخ ابراہیم زکزاکی نے کربلائے معلیٰ کے حوزہ ہائے علمیہ میں زیرِ تعلیم اپنی تحریک کے طلبہ سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کا راستہ عزت، استقامت اور اسلام کی کامیابی کا راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن یہ گمان کرتے ہیں کہ عظیم دینی شخصیات کو شہید کرکے دین اور مکتب کو کمزور کیا جا سکتا ہے، لیکن تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ شہادت حق کے نظریات کو مزید زندہ اور مضبوط بناتی ہے۔
منگل کی شب 29 محرم الحرام 1448 ہجری کو کربلائے معلیٰ میں ہونے والی اس ملاقات میں شیخ زکزاکی نے آیت اللہ العظمیٰ سید خامنہ ایؒ کی شہادت اور اس کے اہم مذہبی ایام کے ساتھ تقارن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات سنتِ الٰہی اور حکمتِ خداوندی کی ایک جھلک ہیں، جبکہ شہادت کا راستہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے دشمن سمجھنے سے قاصر ہیں۔
انہوں نے زاریا کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخصیت کی شہادت سے ایک مکتب ختم ہو سکتا، تو امام حسینؑ کی شہادت کے بعد مکتبِ تشیع باقی نہ رہتا، لیکن عاشورا نے اس مکتب کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور وسیع کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن رہنماؤں کو ہٹا کر حق کی تحریک کو روکنا چاہتے ہیں، مگر ان کی یہ کوششیں الٹا ان شخصیات کے افکار اور اہداف کو زیادہ دوام بخشتی ہیں۔
شیخ زکزاکی نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ دینی علوم کے حصول کے اس موقع سے بھرپور استفادہ کریں، کیونکہ اپنے وطن واپس جانے کے بعد ان پر اہل بیتؑ کی تعلیمات کی ترویج اور تبلیغ کی ذمہ داری عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے عوام میں اسلام کی خالص تعلیمات کی جانب رجحان بڑھ رہا ہے اور مکتب اہل بیتؑ کی معرفت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔
انہوں نے اسلام کی تاریخ میں استقامت اور ایثار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی عزت اللہ کی راہ میں ثابت قدم رہنے میں ہے، اور شہداء اپنی شہادت کے بعد بھی معاشروں پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ شیخ زکزاکی نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس یقین کا اظہار کیا کہ حق کا محاذ آخرکار کامیاب ہوگا، کیونکہ فتح ایثار، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، اور نصرتِ الٰہی بالآخر حق والوں ہی کے حصے میں آئے گی۔
آپ کا تبصرہ